EN हिंदी
وہ موج خنک شہر شرر تک نہیں آئی | شیح شیری
wo mauj-e-KHunuk shahr-e-sharar tak nahin aai

غزل

وہ موج خنک شہر شرر تک نہیں آئی

فضیل جعفری

;

وہ موج خنک شہر شرر تک نہیں آئی
دریاؤں کی خوشبو مرے گھر تک نہیں آئی

سناٹے سجائے گئے گل دانوں میں گھر گھر
کھوئے ہوئے پھولوں کی خبر تک نہیں آئی

ہم اہل جنوں پار اتر جائیں گے لیکن
کشتی ابھی ساحل سے بھنور تک نہیں آئی

صد شکر ترا روشنئ طبع کہ ہم کو
برباد کیا اور نظر تک نہیں آئی