EN हिंदी
وہ مشق خوئے تغافل پھر ایک بار رہے | شیح شیری
wo mashq-e-KHu-e-taghaful phir ek bar rahe

غزل

وہ مشق خوئے تغافل پھر ایک بار رہے

فانی بدایونی

;

وہ مشق خوئے تغافل پھر ایک بار رہے
بہت دنوں مرے ماتم میں سوگوار رہے

خدا کی مار جو اب دل پہ اختیار رہے
بہت قرار کے پردے میں بے قرار رہے

کسی نے وعدۂ صبر آزما کیا تو ہے
خدا کرے کہ مجھے تاب انتظار رہے

فنا کے بعد یہ مجبوریاں ارے توبہ
کوئی مزار میں کوئی سر مزار رہے

سکون موت مری لاش کو نصیب نہیں
رہے مگر کوئی اتنا نہ بے قرار رہے

میں کب سے موت کے اس آسرے پہ جیتا ہوں
کہ زندگی مری مرنے کی یادگار رہے

جو دل بچا نہ سکے جان کیا بچا لیں گے
نہ اختیار رہا ہے نہ اختیار رہے

میں غم نصیب وہ مجبور شوق ہوں فانیؔ
جو نامراد جیے اور امیدوار رہے