EN हिंदी
وہ مجبوری نہیں تھی یہ اداکاری نہیں ہے | شیح شیری
wo majburi nahin thi ye adakari nahin hai

غزل

وہ مجبوری نہیں تھی یہ اداکاری نہیں ہے

پروین شاکر

;

وہ مجبوری نہیں تھی یہ اداکاری نہیں ہے
مگر دونوں طرف پہلی سی سرشاری نہیں ہے

بہانے سے اسے بس دیکھ آنا پل دو پل کو
یہ فرد جرم ہے اور آنکھ انکاری نہیں ہے

میں تیری سرد مہری سے ذرا بددل نہیں ہوں
مرے دشمن ترا یہ وار بھی کاری نہیں ہے

میں اس کے قول پر ایمان لا کر خوف میں ہوں
کہیں لہجے میں تو ظالم کے عیاری نہیں ہے