EN हिंदी
وہ لوٹ آئی ہے آفس سے ہجر ختم ہوا | شیح شیری
wo lauT aai hai office se hijr KHatm hua

غزل

وہ لوٹ آئی ہے آفس سے ہجر ختم ہوا

سوپنل تیواری

;

وہ لوٹ آئی ہے آفس سے ہجر ختم ہوا
ہمارے گال پہ اک کس سے ہجر ختم ہوا

پھر ایک آگ لگی جس میں وصل کی تھی چمک
خیال یار کی ماچس سے ہجر ختم ہوا

تھا بزم دنیا میں مشکل ہمارا ملنا سو
نکل کے آ گئے مجلس سے ہجر ختم ہوا

بھلی شراب ہے یہ وصل نام ہے اس کا
بس ایک جام پیا جس سے ہجر ختم ہوا

تمہارے ہجر میں سو وصل سے گزر کر بھی
یہ سوچتا ہوں کہاں کس سے ہجر ختم ہوا