EN हिंदी
وہ اک وجود زمیں پر بھی آسماں کی طرح | شیح شیری
wo ek wajud zamin par bhi aasman ki tarah

غزل

وہ اک وجود زمیں پر بھی آسماں کی طرح

قمر صدیقی

;

وہ اک وجود زمیں پر بھی آسماں کی طرح
مرے حدود سے باہر ہے لا مکاں کی طرح

وہ اک خیال کوئی بحر بیکراں جیسے
مری نظر کسی بوسیدہ بادباں کی طرح

ازل سے سر پہ کھڑی دوپہر کا منظر ہے
سو اب یہ دھوپ بھی لگتی ہے سائباں کی طرح

میں حرف حرف اسے ہی سمیٹنا چاہوں
مگر وہ پھیلتا جاتا ہے داستاں کی طرح

مرے بدن میں کوئی شے یگوں یگوں سے قمرؔ
بکھر رہی ہے کسی ریگ‌ رائیگاں کی طرح