EN हिंदी
وہ ایک لمحۂ رفتہ بھی کیا بلا لایا | شیح شیری
wo ek lamha-e-rafta bhi kya bula laya

غزل

وہ ایک لمحۂ رفتہ بھی کیا بلا لایا

شہرام سرمدی

;

وہ ایک لمحۂ رفتہ بھی کیا بلا لایا
طویل قصہ ہے بتلاؤں کیا کہ کیا لایا

جہاں کہیں بھی گیا ساتھ تھا غبار حیات
کہاں سے خاک پریشاں یہ میں اٹھا لایا

مرے نصیب میں تھا عشق جاوداں لکھا
وگرنہ کیوں میں تری یاد کو بچا لایا

کہیں بھی کچھ بھی بہ ترتیب تھا نہ واضح تھا
بس ایک خاکۂ مبہم سا تھا بنا لایا