EN हिंदी
وہ بچھڑ کر بھی کہاں مجھ سے جدا ہوتا ہے | شیح شیری
wo bichhaD kar bhi kahan mujhse juda hota hai

غزل

وہ بچھڑ کر بھی کہاں مجھ سے جدا ہوتا ہے

منور رانا

;

وہ بچھڑ کر بھی کہاں مجھ سے جدا ہوتا ہے
ریت پر اوس سے اک نام لکھا ہوتا ہے

خاک آنکھوں سے لگائی تو یہ احساس ہوا
اپنی مٹی سے ہر اک شخص جڑا ہوتا ہے

ساری دنیا کا سفر خواب میں کر ڈالا ہے
کوئی منظر ہو مرا دیکھا ہوا ہوتا ہے

میں بھلانا بھی نہیں چاہتا اس کو لیکن
مستقل زخم کا رہنا بھی برا ہوتا ہے

خوف میں ڈوبے ہوئے شہر کی قسمت ہے یہی
منتظر رہتا ہے ہر شخص کہ کیا ہوتا ہے