وصل کا عیش کہاں پر غم ہجراں تو ہے
لب خنداں تو نہیں دیدۂ گریاں تو ہے
آرزو اور تو کچھ ہم کو نہیں دنیا میں
ہاں مگر ایک ترے ملنے کا ارماں تو ہے
حال کیا پوچھے ہے حیرت کدۂ دہر کا دیکھ
آئنہ یاں کا ہر اک دیدۂ حیراں تو ہے
دام سے خط کے چھٹا دل تو نہیں خاطر جمع
قید کرنے کو ابھی زلف پریشاں تو ہے
لے چلا دل کو جو وہ شوخ تو ہمدم نہ بلا
آپھی آوے گا وہ ہم پاس ابھی جاں تو ہے
گو نہ ہو عیش کا اسباب میسر تو نہ ہو
واسطے دل کے غم و درد کا ساماں تو ہے
ایک ہی دم میں کیا سر کو جدا خوب کیا
تیغ کا تیری یہ سر پر مرے احساں تو ہے
گو ہوئے جیب کے ٹکڑے تو نہیں غم ہم کو
چاک کرنے کو ہمارا ابھی داماں تو ہے
جو پڑے عشق کی آفت میں وہی جانے حسنؔ
خلق کے کہنے میں یوں عاشقی آساں تو ہے
غزل
وصل کا عیش کہاں پر غم ہجراں تو ہے
میر حسن

