وصل بھی ہوگا حسنؔ تو ٹک تو استقلال کر
حال اپنا ہم سے کہہ کہہ ہم کو مت بے حال کر
سارباں گرم حدی ہے اور جرس ہے نعرہ زن
تو بھی ٹک محمل کے آگے گرد مجنوں حال کر
شمع ساں جتنا سنایا حال رو رو اس کو میں
اٹھ گیا آخر وہ سب باتیں ہنسی میں ٹال کر
مشق جور و ظلم تو کرتا ہی جاتا ہے وہ شوخ
تو بھی دل صبر و تحمل کا اب استعمال کر
عیش و عشرت کو نہ دے تو راہ دل میں اے حسنؔ
درد و غم ہی سے کسی کے اس کو مالا مال کر
غزل
وصل بھی ہوگا حسنؔ تو ٹک تو استقلال کر
میر حسن

