EN हिंदी
وقت سفر جو ساتھ چلے تھے | شیح شیری
waqt-e-safar jo sath chale the

غزل

وقت سفر جو ساتھ چلے تھے

پریم بھنڈاری

;

وقت سفر جو ساتھ چلے تھے
لگتا تھا وہ لوگ بھلے تھے

کانٹوں کی تاثیر لئے کیوں
پھولوں جیسے لوگ ملے تھے

اوروں کے گھر روشن کرنے
ساری ساری رات جلے تھے

پیاس بجھانا کھیل نہیں تھا
یوں تو دریا پاؤں تلے تھے

شام ہوئی تو سورج سوچے
سارا دن بیکار جلے تھے