EN हिंदी
وحشتوں کا کبھی شیدائی نہیں تھا اتنا | شیح شیری
wahshaton ka kabhi shaidai nahin tha itna

غزل

وحشتوں کا کبھی شیدائی نہیں تھا اتنا

خاطر غزنوی

;

وحشتوں کا کبھی شیدائی نہیں تھا اتنا
جیسے اب ہوں ترا سودائی نہیں تھا اتنا

بارہا دل نے ترا قرب بھی چاہا تھا مگر
آج کی طرح تمنائی نہیں تھا اتنا

اس سے پہلے بھی کئی بار ملے تھے لیکن
شوق دلدادۂ رسوائی نہیں تھا اتنا

پاس رہ کر مجھے یوں قرب کا احساس نہ تھا
دور رہ کر غم تنہائی نہیں تھا اتنا

اپنے ہی سایوں میں کیوں کھو گئیں نظریں خاطرؔ
تو کبھی اپنا تماشائی نہیں تھا اتنا