EN हिंदी
وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہے | شیح شیری
wahshat-zada dil to jun sharar hai

غزل

وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہے

میر اثر

;

وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہے
اس کے تئیں آپ سے سفر ہے

تم جور و جفا کرو جو چاہو
ان باتوں پہ کب مجھے نظر ہے

تو آپ ہی خیر آپ شر ہے
کچھ اور نہ نفع نے ضرر ہے

ہم بے خبروں سے رہ خبردار
اتنی تو بھلا تجھے خبر ہے

گزری جاتی ہے ہر طرح سے
دنیا گزران سر بسر ہے

دل کے خطروں سے بے خطر ہوں
سر سے پاؤں تلک خطر ہے

تو نے ہی تو یوں نڈر کیا ہے
بس ایک مجھے ترا ہی ڈر ہے

یوں درد بہ جان و دل سمایا
ہر نالہ و آہ کارگر ہے

یا حضرت عندلیب بخشش
یہ تیرے ہی درد کا اثر ہے

دل تیری طرف ہے نت پر اس کو
معلوم نہیں کہ تو کدھر ہے

یوں آنکھ سے آنکھ میں ملا ہے
اتنا تو مرا دل و جگر ہے

بے درد تو کیونکہ رہ سکے گا
یہ حضرت دردؔ کا اثرؔ ہے