EN हिंदी
وحشت کا کہیں اثر نہیں ہے | شیح شیری
wahshat ka kahin asar nahin hai

غزل

وحشت کا کہیں اثر نہیں ہے

شہرت بخاری

;

وحشت کا کہیں اثر نہیں ہے
کچھ بھی ہے یہ میرا گھر نہیں ہے

تا حد فلک کھنچی ہے دیوار
دیوار میں کوئی در نہیں ہے

آغاز سفر میں قافلہ تھا
اب ایک بھی ہم سفر نہیں ہے

کوفہ ہو دمشق ہو مدینہ
سادات کا کوئی گھر نہیں ہے

وہ، وہ تو نہیں جو سامنے تھا
میرا ہے، مرا مگر نہیں ہے

اس عہد کی شناخت ٹھہری
سب کچھ ہے مگر نظر نہیں ہے

جینے کی طلب نہیں ہے شہرتؔ
جینے سے مگر مفر نہیں ہے