EN हिंदी
وہم ثابت ہوئے سب خواب سہانے تیرے | شیح شیری
wahm sabit hue sab KHwab suhane tere

غزل

وہم ثابت ہوئے سب خواب سہانے تیرے

شہرت بخاری

;

وہم ثابت ہوئے سب خواب سہانے تیرے
یاد کرتے ہیں مگر لوگ فسانے تیرے

کاش وہ دن نہ کبھی آئے کہ تو آ جائے
راس آتے ہیں مرے جی کو بہانے تیرے

ایسی افتاد پڑی اپنی خبر بھی نہ رہی
ہم تو آئے تھے یہاں رنگ جمانے تیرے

کل چھپا رکھتے تھے خود سے بھی محبت اپنی
آج آئے ہیں تجھے داغ دکھانے تیرے

خلق کا دھیان ہٹاتے رہے کانٹے کیا کیا
راز افشا کیے سب باد صبا نے تیرے

درد کیا کیا نہ ملے شوق طلب سے اپنے
زخم کیا کیا نہ دیے ذوق حیا نے تیرے

جز ترے چاہنے والا تھا نہ ان کا کوئی
لوٹ کر آئے نہ شہرتؔ وہ زمانے تیرے