EN हिंदी
وہی رنگ رخ پہ ملال تھا یہ پتہ نہ تھا | شیح شیری
wahi rang-e-ruKH pe malal tha ye pata na tha

غزل

وہی رنگ رخ پہ ملال تھا یہ پتہ نہ تھا

صدیق مجیبی

;

وہی رنگ رخ پہ ملال تھا یہ پتہ نہ تھا
مرا غم بھی شامل حال تھا یہ پتہ نہ تھا

وہی شام آخری شام تھی یہ خبر نہ تھی
وہی وقت وقت زوال تھا یہ پتہ نہ تھا

مجھے کر گیا جو تہی تہی بھرے شہر میں
وہ مرا ہی دست سوال تھا یہ پتہ نہ تھا

مجھے بت بنا کے چلے گئے کہ نہ رو سکوں
انہیں میرا اتنا خیال تھا یہ پتہ نہ تھا

وہ ہوائے مرگ تھی جس سے دل کا دیا بجھا
مرے دل کا بجھنا کمال تھا یہ پتہ نہ تھا

میں مجیبیؔ ڈھونڈوں کہاں اسے وہ کہاں ملے
وہ تو آپ اپنی مثال تھا یہ پتہ نہ تھا