EN हिंदी
وہی میں ہوں وہی خالی مکاں ہے | شیح شیری
wahi main hun wahi Khaali makan hai

غزل

وہی میں ہوں وہی خالی مکاں ہے

فاروق نازکی

;

وہی میں ہوں وہی خالی مکاں ہے
مرے کمرے میں پورا آسماں ہے

دیار خواب و چشم دل فگاراں
جزیرہ نیند کا کیوں درمیاں ہے

سکوت مرگ طاری ہر شجر پر
یہ کیسا موسم تیغ و سناں ہے

چمن افسردہ گل مرجھا گئے ہیں
خزاں کی زد پہ سارا گلستاں ہے

بھلا دی آپ نے بھی وہ کہانی
محبت جس کے دم سے جاوداں ہے