EN हिंदी
وہی درد مسلسل وہی صرف دعا میں | شیح شیری
wahi dard-e-musalsal wahi sarf-e-dua main

غزل

وہی درد مسلسل وہی صرف دعا میں

راجیندر منچندا بانی

;

وہی درد مسلسل وہی صرف دعا میں
بسر ہوتی ہوئی شب بسر ہوتا ہوا میں

اکیلا اپنا محرم کہ اپنا دوسرا میں
نظر میں آئنہ میں سماعت میں صدائیں

میان محشر ستاں عجب بے واسطہ میں
نہیں اس کی خبر میں نہیں اپنا پتہ میں

میں آساں بھی کٹھن بھی مگر تم کون میرے
میں آپ اپنا تذبذب خود اپنا فیصلہ میں

سکون نا آشنا لوگ یہ آپس میں جدا لوگ
بہت کچھ دیکھتا ہوں سر راہے کھڑا میں

میں کیا ہوں کس جگہ ہوں کہو وابستگاں کچھ
نہ مٹی کی مہک میں نہ پربت کی ہوا میں

تمہیں جب لوٹنا ہو خوشی سے لوٹ آنا
وفا قائم ملوں گا یہی میں طے شدہ میں