وہی عذاب وہی آسرا بھی جینے کا
وہ میرا دل ہی نہیں زخم بھی ہے سینے کا
میں بے لباس ہی شیشہ کے گھر میں رہتا ہوں
مجھے بھی شوق ہے اپنی طرح سے جینے کا
وہ دیکھ چاند کی پر نور کہکشاؤں میں
تمام رنگ ہے خورشید کے پسینے کا
میں پرخلوص ہوں پھاگن کی دوپہر کی طرح
ترا مزاج لگے پوس کے مہینے کا
سمندروں کے سفر میں سنبھال کر رکھنا
کسی کنویں سے جو پانی ملا ہے پینے کا
مینکؔ آنکھ میں سیلاب اٹھ نہ پائے کبھی
کہ ایک اشک مسافر ہے اس سفینے کا
غزل
وہی عذاب وہی آسرا بھی جینے کا
مینک اوستھی

