EN हिंदी
وفا کی تشہیر کرنے والا فریب گر ہے ستم تو یہ ہے | شیح شیری
wafa ki tashhir karne wala fareb-gar hai sitam to ye hai

غزل

وفا کی تشہیر کرنے والا فریب گر ہے ستم تو یہ ہے

گلزار بخاری

;

وفا کی تشہیر کرنے والا فریب گر ہے ستم تو یہ ہے
نگاہ یاراں میں پھر بھی وہ شخص معتبر ہے ستم تو یہ ہے

ہم ایسے سادہ دلوں کو تجھ سے ملے گی داد خلوص کیسے
زمانہ سازی کی خو ترے عہد میں ہنر ہے ستم تو یہ ہے

اگر تجھے علم ہی نہ ہوتا تو پھر کبھی ہم گلہ نہ کرتے
سکون کیوں چھن گیا ہمارا تجھے خبر ہے ستم تو یہ ہے

کرشمۂ حسن دامن دل کو کھینچتا ہے قدم قدم پر
ستائش خال و خد کی میعاد مختصر ہے ستم تو یہ ہے

کھلا ہے باب قفس تو اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہو
ملی ہے جس کو رہائی محروم بال و پر ہے ستم تو یہ ہے