EN हिंदी
وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے | شیح شیری
wafa ke zaKHm hum dhone na pae

غزل

وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے

باقی صدیقی

;

وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
بہت روئے مگر رونے نہ پائے

کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں
مسافر رات بھر سونے نہ پائے

جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ
وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے