EN हिंदी
واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھا | شیح شیری
wan se ghar aa ke kahan sona tha

غزل

واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھا

جرأت قلندر بخش

;

واں سے گھر آ کے کہاں سونا تھا
صبح تک یاد تھی اور رونا تھا

جب ہوئی صبح تو بستر سے پھر اٹھ
گریۂ خونی سے منہ دھونا تھا

دھو چکے منہ کو تو کشت دل میں
تخم غم کا ہمیں پھر بونا تھا

بو چکے تخم تو پایا یہ ثمر
کہ جگر کاوی تھی جی کھونا تھا

جی کے کھونے کے ہو درپئے یہ کہا
کہ نصیبوں میں یہی ہونا تھا

ہونا قسمت کا کہیں کیا تا شام
ہم تھے اور گھر کا بس اک کونا تھا

کونے لگ بیٹھے تو جرأتؔ اے وائے!
پھر وہی رات تھی اور رونا تھا