EN हिंदी
واہمہ کی یہ مشق پیہم کیا | شیح شیری
wahime ki ye mashq-e-paiham kya

غزل

واہمہ کی یہ مشق پیہم کیا

فانی بدایونی

;

واہمہ کی یہ مشق پیہم کیا
یاس و امید شادی و غم کیا

تم کو اس راز ماسوا کی قسم
تم پہ چھایا ہوا ہے عالم کیا

ان کے آگے غم اک فسانہ ہے
ان سے کہیے فسانۂ غم کیا

عیش رفتہ کی یاد سے حاصل
قصۂ خلد و ذکر آدم کیا

تا کجا آہ زیر لب آخر
انتہائے سکوت برہم کیا

غم دنیا بقدر ظرف نہیں
حسرت بیش و شکوۂ کم کیا

سوز غم کی حدیں نہیں ملتیں
بجھ گئی آتش جہنم کیا

گرم و سرد زمانہ جو کچھ ہو
ورنہ فردوس کیا جہنم کیا

موت جس کی حیات ہو فانیؔ
اس شہید ستم کا ماتم کیا