واہمہ کی یہ مشق پیہم کیا
یاس و امید شادی و غم کیا
تم کو اس راز ماسوا کی قسم
تم پہ چھایا ہوا ہے عالم کیا
ان کے آگے غم اک فسانہ ہے
ان سے کہیے فسانۂ غم کیا
عیش رفتہ کی یاد سے حاصل
قصۂ خلد و ذکر آدم کیا
تا کجا آہ زیر لب آخر
انتہائے سکوت برہم کیا
غم دنیا بقدر ظرف نہیں
حسرت بیش و شکوۂ کم کیا
سوز غم کی حدیں نہیں ملتیں
بجھ گئی آتش جہنم کیا
گرم و سرد زمانہ جو کچھ ہو
ورنہ فردوس کیا جہنم کیا
موت جس کی حیات ہو فانیؔ
اس شہید ستم کا ماتم کیا
غزل
واہمہ کی یہ مشق پیہم کیا
فانی بدایونی

