EN हिंदी
اٹھی تھیں آندھیاں جن کو بجھانے | شیح شیری
uThi thin aandhiyan jinko bujhane

غزل

اٹھی تھیں آندھیاں جن کو بجھانے

پروین فنا سید

;

اٹھی تھیں آندھیاں جن کو بجھانے
وہ شمعیں اور بھڑکیں اس بہانے

نقابیں بجلیوں کی رخ پہ ڈالے
چمن والوں نے لوٹے آشیانے

یہ کیوں وحشت سے لپکا دست گلچیں
کلی شاید لگی تھی کچھ بتانے

ابھی موہوم ہے سجدے کا مفہوم
جھکا پھر کس لیے سر کون جانے

شعور زندگی کی ڈھال لے کر
چلے ہم موت سے آنکھیں ملانے