اٹھ کے لوگوں سے کنارے آئیے
کچھ ہمیں کہنا ہے پیارے آئیے
گر اجازت ہو تو پروانہ کی طرح
صدقہ ہونے کو تمہارے آئیے
مدتوں سے آرزو یہ دل میں ہے
ایک دن تو گھر ہمارے آئیے
کچھ تو کی تاثیر نالہ نے مرے
آئے تم مدت میں بارے آئیے
آپ کی کل یاد میں بیدارؔ کو
گنتے گزری رات تارے آئیے
غزل
اٹھ کے لوگوں سے کنارے آئیے
میر محمدی بیدار

