عشاق میں نام ہو چکا ہے
کیفیؔ بدنام ہو چکا ہے
کیا پوچھتے ہو مریض غم کو
کام اس کا تمام ہو چکا ہے
عاشق کا نہ امتحاں لو وہ تو
بندۂ بے دام ہو چکا ہے
کیوں ہم سے نہ منہ چھپا کے جائیں
ہاں آپ کا کام ہو چکا ہے
کیا کام ہمیں رہا کسی سے
جب اپنا ہی کام ہو چکا ہے
کیفیؔ کب تک یہ خواب غفلت
مہر لب بام ہو چکا ہے
غزل
عشاق میں نام ہو چکا ہے
دتا تریہ کیفی

