EN हिंदी
اسے شکست نہ ہونے پہ مان کتنا تھا | شیح شیری
use shikast na hone pe man kitna tha

غزل

اسے شکست نہ ہونے پہ مان کتنا تھا

حسن اکبر کمال

;

اسے شکست نہ ہونے پہ مان کتنا تھا
جو ریزہ ریزہ ہوا سخت جان کتنا تھا

ہے اب دلوں میں یہ دہشت کہ سر پہ آ نہ گرے
زمیں سے دور یہی آسمان کتنا تھا

میں اپنا ظرف بھی دیکھوں کہ اس سے رنجش پر
بھلا دیا کہ وہی مہربان کتنا تھا

بجا ہے وسعت دنیا مگر چھٹا جب گھر
کھلا کہ تنگ ہمیں پر جہان کتنا تھا

دیئے تو بجھ گئے بجلی کے قمقمے نہ بجھے
ہوا کو زور پہ اپنے گمان کتنا تھا

جو پھول گود سے اس کی کمالؔ چھینے گئے
اداس ان کے لیے پھول دان کتنا تھا