EN हिंदी
اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا | شیح شیری
use ek ajnabi khiDki se jhanka

غزل

اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا

احمد خیال

;

اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا
زمانے کو نئی کھڑکی سے جھانکا

وہ پورا چاند تھا لیکن ہمیشہ
گلی میں ادھ کھلی کھڑکی سے جھانکا

میں پہلی مرتبہ نشے میں آیا
کوئی جب دوسری کھڑکی سے جھانکا

امر ہونے کی خواہش مر گئی تھی
جب اس نے دائمی کھڑکی سے جھانکا

میں سبزے پر چلا تھا ننگے پاؤں
سحر دم شبنمی کھڑکی سے جھانکا

مجھے بھاتے ہیں لمحے اختتامی
میں پہلے آخری کھڑکی سے جھانکا