اس سے جی بھر کے ملی داد تمنا مجھ کو
جس نے تصویر تری دیکھ کے دیکھا مجھ کو
دیکھنے والے یہ کس شان سے دیکھا مجھ کو
آج دنیا کے مزے دے گئی دنیا مجھ کو
جذب دل تیرے کرشموں نے الٹ دی دنیا
اب سناتے ہیں وہ خود میرا فسانا مجھ کو
بے تحاشا تری تصویر پہ جاتی ہے نگاہ
جب کوئی کہتا ہے تقدیر کا مارا مجھ کو
ایک دھج عالم وحشت میں بدلتا ہوں روز
چاہتا ہوں کہ کہیں لوگ تمہارا مجھ کو
گھر کو چھوڑا ہے خدا جانے کہاں جانے کو
اب سمجھ لیجئے ٹوٹا ہوا تارا مجھ کو
دل لہو کر گیا آغاز محبت منظرؔ
اور ابھی دیکھنا باقی ہے نتیجہ مجھ کو
غزل
اس سے جی بھر کے ملی داد تمنا مجھ کو
منظر لکھنوی

