EN हिंदी
اس سے بچھڑ کے باب ہنر بند کر دیا | شیح شیری
us se bichhaD ke bab-e-hunar band kar diya

غزل

اس سے بچھڑ کے باب ہنر بند کر دیا

عرفانؔ صدیقی

;

اس سے بچھڑ کے باب ہنر بند کر دیا
ہم جس میں جی رہے تھے وہ گھر بند کر دیا

شاید خبر نہیں ہے غزالان شہر کو
اب ہم نے جنگلوں کا سفر بند کر دیا

اپنے لہو کے شور سے تنگ آ چکا ہوں میں
کس نے اسے بدن میں نظر بند کر دیا

اب ڈھونڈ اور قدر شناسان رنگ و بو
ہم نے یہ کام اے گل تر بند کر دیا

اک اسم جاں پہ ڈال کے خاک فرامشی
اندھے صدف میں ہم نے گہر بند کر دیا