EN हिंदी
اس سے بھی ایسی خطا ہو یہ ضروری تو نہیں | شیح شیری
us se bhi aisi KHata ho ye zaruri to nahin

غزل

اس سے بھی ایسی خطا ہو یہ ضروری تو نہیں

سید شکیل دسنوی

;

اس سے بھی ایسی خطا ہو یہ ضروری تو نہیں
وہ بھی مجبور وفا ہو یہ ضروری تو نہیں

لوگ چہرے پہ کئی چہرے چڑھا لیتے ہیں
وہ بھی کھل کر ہی ملا ہو یہ ضروری تو نہیں

اب کے جب اس سے ملو ہاتھ دبا کر دیکھو
اب بھی وہ تم سے خفا ہو یہ ضروری تو نہیں

جستجو کس کی ہے یہ دشت فنا کے اس پار
وہ کوئی اور رہا ہو یہ ضروری تو نہیں

دار پہ کھینچے گئے کتنے زمانے میں شکیلؔ
ہر کوئی عیسیٰ رہا ہو یہ ضروری تو نہیں