EN हिंदी
اس نے بیکار یہ بہروپ بنایا ہوا ہے | شیح شیری
usne be-kar ye bahrup banaya hua hai

غزل

اس نے بیکار یہ بہروپ بنایا ہوا ہے

عرفانؔ صدیقی

;

اس نے بیکار یہ بہروپ بنایا ہوا ہے
ہم نے جادو کا اک آئینہ لگایا ہوا ہے

دو جگہ رہتے ہیں ہم ایک تو یہ شہر ملال
ایک وہ شہر جو خوابوں میں بسایا ہوا ہے

رات اور اتنی مسلسل کسی دیوانے نے
صبح روکی ہوئی ہے چاند چرایا ہوا ہے

عشق سے بھی کسی دن معرکہ فیصل ہو جائے
اس نے مدت سے بہت حشر بپایا ہوا ہے

لغزشیں کون سنبھالے کہ محبت میں یہاں
ہم نے پہلے بھی بہت بوجھ اٹھایا ہوا ہے

بانوئے شہر ہمیں تجھ سے ندامت ہے بہت
ایک دل ہے جو کسی اور پہ آیا ہوا ہے