EN हिंदी
اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہم | شیح شیری
usko ghaflat-pesha kah aate hain hum

غزل

اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہم

گویا فقیر محمد

;

اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہم
بھول جانا یاد دلواتے ہیں ہم

ضعف سے رہتا ہے اب پاؤں پہ سر
آپ اپنی ٹھوکریں کھاتے ہیں ہم

دل نہیں اس بت کی الفت چھوڑتا
نا سمجھ کو لاکھ سمجھاتے ہیں ہم

ہے جنازہ اس لئے بھاری مرا
حسرتیں دل کی لئے جاتے ہیں ہم

بار عصیاں سر پہ ہے گویا بہت
کیا اٹھائیں سر جھکے جاتے ہیں ہم