EN हिंदी
اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے | شیح شیری
uski to ek dil-lagi apna bana ke chhoD de

غزل

اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے

آرزو لکھنوی

;

اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے
جائے وہ اب کہاں جسے سب سے چھڑا کے چھوڑ دے

کھیل نہیں ہے بد گماں قول و قرار بھولنا
پھر سے آزما کے دیکھ یاد دلا کے چھوڑ دے

نبھ چکا زندگی کا ساتھ جب یہ ابھی سے حال ہے
بوجھ بٹانے والا ہی بیچ میں لا کے چھوڑ دے

اس سے کہیں تو کیا کہیں جس کے مزاج میں یہ ضد
جب نہ لگی بجھا سکے آگ لگا کے چھوڑ دے

راہ طویل پاؤں شل اور یہ ہم سفر کا حال
لے تو چلے سنبھال کے بیچ میں لا کے چھوڑ دے