اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے
جائے وہ اب کہاں جسے سب سے چھڑا کے چھوڑ دے
کھیل نہیں ہے بد گماں قول و قرار بھولنا
پھر سے آزما کے دیکھ یاد دلا کے چھوڑ دے
نبھ چکا زندگی کا ساتھ جب یہ ابھی سے حال ہے
بوجھ بٹانے والا ہی بیچ میں لا کے چھوڑ دے
اس سے کہیں تو کیا کہیں جس کے مزاج میں یہ ضد
جب نہ لگی بجھا سکے آگ لگا کے چھوڑ دے
راہ طویل پاؤں شل اور یہ ہم سفر کا حال
لے تو چلے سنبھال کے بیچ میں لا کے چھوڑ دے
غزل
اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے
آرزو لکھنوی

