EN हिंदी
ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتا | شیح شیری
unki chuTki mein dil na mal jata

غزل

ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتا

سخی لکھنوی

;

ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتا
تو یہ سکہ ہمارا چل جاتا

شمع تھا یار جو پگھل جاتا
اور میں پروانہ تھا جو جل جاتا

کیا کہیں سیر کو وہ گل نہ گیا
باغ کا رنگ ہی بدل جاتا

گور ہی سے نہ بن پڑی ورنہ
اژدہا تو ہمیں نگل جاتا

اب تو پستاں نکالئے صاحب
اتنے سن میں انار پھل جاتا

صدمے گھیرے ہیں ہجر میں دم کو
سانس پاتا تو یہ نگل جاتا

کیا گراتا سخیؔ یہ چرخ مجھے
یا علیؔ کہتا اور سنبھل جاتا