EN हिंदी
عمر گزری رہ گزر کے آس پاس | شیح شیری
umr guzri rahguzar ke aas-pas

غزل

عمر گزری رہ گزر کے آس پاس

رسا چغتائی

;

عمر گزری رہ گزر کے آس پاس
رقص کرتے اس نظر کے آس پاس

زلف کھلتی ہے تو اٹھتا ہے دھواں
آبشار چشم تر کے آس پاس

کوندتی ہیں بجلیاں برسات میں
طائر بے بال و پر کے آس پاس

رات بھر آوارہ پتے اور ہوا
رقص کرتے ہیں شجر کے آس پاس

چھوڑ آیا ہوں متاع جاں کہیں
غالباً اس رہ گزر کے آس پاس

بال بکھرائے یہ بوڑھی چاندنی
ڈھونڈتی ہے کیا کھنڈر کے آس پاس

اس گلی میں ایک لڑکا آج بھی
گھومتا رہتا ہے گھر کے آس پاس

ایک صورت آشنا سائے کی دھوپ
پڑ رہی ہے بام و در کے آس پاس

کیسے پر اسرار چہرے ہیں رساؔ
خواب گاہ شیشہ گر کے آس پاس