EN हिंदी
الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے | شیح شیری
ulfat ke imtihan mein aghyar fail nikle

غزل

الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے

دتا تریہ کیفی

;

الفت کے امتحاں میں اغیار فیل نکلے
تھے پاس ایک ہم ہی جو جاں پہ کھیل نکلے

تیغ و سناں کو رکھ دو آنکھیں لڑاؤ ہم سے
اچھی ہے وہ لڑائی جس میں کہ میل نکلے

دیکھا جو نور اس کا تو کھل گئی ہیں آنکھیں
دنیا و دیں کے جھگڑے بچوں کا کھیل نکلے

امید نیکیوں کی رکھو نہ تم بروں سے
ممکن نہیں کھلی سے ہرگز جو تیل نکلے

کب کوہ کن سے اٹھا کوہ گراں سے الفت
ان سختیوں کو کیفیؔ کچھ ہم ہی جھیل نکلے