EN हिंदी
الٹ گیا ہے ہر اک سلسلہ نشانے پر | شیح شیری
ulaT gaya hai har ek silsila nishane par

غزل

الٹ گیا ہے ہر اک سلسلہ نشانے پر

عرفانؔ صدیقی

;

الٹ گیا ہے ہر اک سلسلہ نشانے پر
چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر

غزل میں اس کو ستم گر کہا تو روٹھ گیا
چلو یہ حرف ملامت لگا نشانے پر

میں اپنے سینے سے شرمندہ ہونے والا تھا
کہ آ لگا کوئی تیر جفا نشانے پر

خدا سے آخری رشتہ بھی کٹ نہ جائے کہیں
کہ اب کے ہے مرا دست دعا نشانے پر

وہ شعلہ اپنی ہی تیزی میں جل بجھا ورنہ
رکھا تھا خیمۂ صبر و رضا نشانے پر

میں انتظار میں ہوں کون اسے شکار کرے
بہت دنوں سے ہے میری نوا نشانے پر