EN हिंदी
اداس رات کا دکھ جانتا کوئی بھی نہ تھا | شیح شیری
udas raat ka dukh jaanta koi bhi na tha

غزل

اداس رات کا دکھ جانتا کوئی بھی نہ تھا

اسعد بدایونی

;

اداس رات کا دکھ جانتا کوئی بھی نہ تھا
مری طرح اسے پہچانتا کوئی بھی نہ تھا

سب اپنے قد کو صنوبر سمجھ رہے تھے وہاں
مرے وجود کو گردانتا کوئی بھی نہ تھا

وہ جس کی لاش سڑک پر پڑی ہوئی تھی کل
اس ایک شخص کو پہچانتا کوئی بھی نہ تھا

سب اپنی دھن میں مگن اپنی فکر میں گم تھے
نصیحتوں کو مری مانتا کوئی بھی نہ تھا

میں اجنبی تھا وہاں سب کے واسطے اسعدؔ
ترے نگر میں مجھے جانتا کوئی بھی نہ تھا