EN हिंदी
اداس کر کے دریچے نئے مکانوں کے | شیح شیری
udas kar ke dariche nae makanon ke

غزل

اداس کر کے دریچے نئے مکانوں کے

احمد مشتاق

;

اداس کر کے دریچے نئے مکانوں کے
ستارے ڈوب گئے سبز آسمانوں کے

گئی وہ شب جو کبھی ختم ہی نہ ہوتی تھی
ہوائیں لے گئیں اوراق داستانوں کے

ہر آن برق چمکتی ہے دل دھڑکتا ہے
مری قمیص پہ تنکے ہیں آشیانوں کے

ترے سکوت سے وہ راز بھی ہوئے افشا
کہ جن کو کان ترستے تھے راز دانوں کے

یہ بات تو جرس شوق کو بھی ہے معلوم
قدم اٹھیں گے تو بس تیرے نا توانوں کے