EN हिंदी
ابھری نہ کوئی شکل نہ پیکر نظر آیا | شیح شیری
ubhri na koi shakl na paikar nazar aaya

غزل

ابھری نہ کوئی شکل نہ پیکر نظر آیا

خالد احمد

;

ابھری نہ کوئی شکل نہ پیکر نظر آیا
تصویر میں رنگوں کا سمندر نظر آیا

اے دوست ترا شہر بھی ہے شہر طلسمات
چھوکر جسے دیکھا وہی پتھر نظر آیا

ہر شخص حقائق کی کڑی دھوپ کے ڈر سے
تانے ہوئے اوہام کی چادر نظر آیا

ہر شخص نیا شخص تھا جب غور سے دیکھا
انسان اک انسان کے اندر نظر آیا

میں خواب میں کل رات جسے چوم رہا تھا
جاگا تو اسی ہاتھ میں پتھر نظر آیا

جب بونے لگا بیج خیالات کے خالدؔ
ہر لفظ کا دامن مجھے بنجر نظر آیا