ابھرا جو چاند اونگھتی پرچھائیاں ملیں
ہر روشنی کی گود میں تنہائیاں ملیں
شہر وفا میں ہم جو چلے آئے دفعتاً
ہر ہر قدم پہ درد کی شہنائیاں ملیں
غنچے ہنسے تو حسن کا کوسوں پتہ نہ تھا
روٹھی ہوئی کچھ ایسی بھی رعنائیاں ملیں
ذہن خلش سے دیکھا جو ایوان خواب کو
خواہش کو پوجتی ہوئی انگنائیاں ملیں
خوشبو کے ریگ زار میں کیا جانے کیا ملے
یادوں کے آئنے میں تو انگڑائیاں ملیں

غزل
ابھرا جو چاند اونگھتی پرچھائیاں ملیں
اطہر عزیز