EN हिंदी
ابل پڑا یک بیک سمندر تو میں نے دیکھا | شیح شیری
ubal paDa yak-ba-yak samundar to maine dekha

غزل

ابل پڑا یک بیک سمندر تو میں نے دیکھا

غلام مرتضی راہی

;

ابل پڑا یک بیک سمندر تو میں نے دیکھا
کھلا جو راز سکوت لب پر تو میں نے دیکھا

اتر گیا رنگ روئے منظر تو میں نے دیکھا
ہٹی نگاہ بہار یکسر تو میں نے دیکھا

نہ جانے کب سے وہ اندر اندر سلگ رہا تھا
ملا جو دیوار میں مجھے در تو میں نے دیکھا

تمام گرد و غبار دل سے نکل چکا تھا
برس چکا ابر اشک کھل کر تو میں نے دیکھا

نشان قدموں کے راستے میں چمک رہے تھے
گزر گیا وہ نظر بچا کر تو میں نے دیکھا

ملا کے مٹی میں رکھ دی اس نے عبادت اس کی
جو میرے آگے نہ خم کیا سر تو میں نے دیکھا