EN हिंदी
تو وفا کر کے بھول جا مجھ کو | شیح شیری
tu wafa kar ke bhul ja mujhko

غزل

تو وفا کر کے بھول جا مجھ کو

آلوک شریواستو

;

تو وفا کر کے بھول جا مجھ کو
اب ذرا یوں بھی آزما مجھ کو

یہ زمانہ برا نہیں ہے مگر
اپنی نظروں سے دیکھنا مجھ کو

بے صدا کاغذوں میں آگ لگا
آج کی رات گنگنا مجھ کو

تجھ کو کس کس میں ڈھونڈھتا آخر
تو بھی کس کس سے مانگتا مجھ کو

اب کسی اور کا پجاری ہے
جس نے مانا تھا دیوتا مجھ کو