تو نے جو کچھ کہ کیا میرے دل زار کے ساتھ
آگ نے بھی نہ کیا وہ تو خس و خار کے ساتھ
آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا کبھی تو نے ظالم
سر پٹک مر گئے لاکھوں تری دیوار کے ساتھ
یہ کئی تار ہیں وہ رشتۂ جاں ہے یکسر
غلط اس زلف کی تشبیہ ہے زنار کے ساتھ
رات دن رہتی ہے جوں دیدۂ تصویر کھلی
آنکھ جب سے لگی اس آئنہ رخسار کے ساتھ
دیکھیو گر نہ پڑے دیجو اسے اے قاصد
دل بے تاب لپٹتا ہے میں طومار کے ساتھ
کیا عجب یہ ہے کہ وہ مجھ سے ملا رہتا ہے
گل کو پیوستگی لازم ہے کہ ہو خار کے ساتھ
ہے سزا وار اگر ایسے کو دیجے دل و دیں
ہم بھی دیکھا اسے کل دور سے بیدارؔ کے ساتھ
غزل
تو نے جو کچھ کہ کیا میرے دل زار کے ساتھ
میر محمدی بیدار

