EN हिंदी
تو نہیں تیرا استعارا نہیں | شیح شیری
tu nahin tera istiara nahin

غزل

تو نہیں تیرا استعارا نہیں

امجد اسلام امجد

;

تو نہیں تیرا استعارا نہیں
آسماں پر کوئی ستارا نہیں

وہ مرے سامنے سے گزرا تھا
پھر بھی میں چپ رہا پکارا نہیں

وہ نہیں ملتا ایک بار ہمیں
اور یہ زندگی دوبارا نہیں

ہر سمندر کا ایک ساحل ہے
ہجر کی رات کا کنارا نہیں

ہو سکے تو نگاہ کر لینا
تم پہ کچھ زور تو ہمارا نہیں