EN हिंदी
تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا | شیح شیری
tu humse jo ham-sharab hoga

غزل

تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا

میر سوز

;

تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا
بہتوں کا جگر کباب ہوگا

ڈھونڈھے گا سحاب چھپنے کو مہر
جس روز وہ بے نقاب ہوگا

خوباں سے نہ کر محبت اے دل
آمان کہاں خراب ہوگا

اے مرگ شتاب کہہ تو مجھ سے
اس زیست کو کب جواب ہوگا

بوسہ دے سوزؔ کو مری جان
مطلب تیرا شتاب ہوگا