تو ہے گر مجھ سے خفا خود سے خفا ہوں میں بھی
مجھ کو پہچان کہ تیری ہی ادا ہوں میں بھی
ایک تجھ سے ہی نہیں فصل تمنا شاداب
وہی موسم ہوں وہی آب و ہوا ہوں میں بھی
مجھ کو پانا ہو تو ہر لمحہ طلب کر نہ مجھے
رات کے پچھلے پہر مانگ! دعا ہوں میں بھی
ثبت ہوں دست خموشی پہ حنا کی صورت
ناشنیدہ ہی سہی تیرا کہا ہوں میں بھی
جانے کس سمت چلوں کون سے رخ مڑ جاؤں
مجھ سے مت مل کہ زمانے کی ہوا ہوں میں بھی
یوں نہ مرجھا کہ مجھے خود پہ بھروسا نہ رہے
پچھلے موسم میں ترے ساتھ کھلا ہوں میں بھی
غزل
تو ہے گر مجھ سے خفا خود سے خفا ہوں میں بھی
مظہر امام

