EN हिंदी
تو بھی کر غور اس کہانی پر | شیح شیری
tu bhi kar ghaur is kahani par

غزل

تو بھی کر غور اس کہانی پر

انور سدید

;

تو بھی کر غور اس کہانی پر
جو لکھی جا رہی ہے پانی پر

یہ زمیں زر اگائے گی اک دن
رکھ یقیں اپنی کلبہ رانی پر

اس کی بے محوری پہ غور نہ کر
رحم کھا اس کی بے زبانی پر

گرچہ مشکل تلاش تھی اس کی
گھر ترا مل گیا نشانی پر

ان سے معنی کشید کر اپنے
نقش ابھرے ہیں جو بھی پانی پر

قائم انور سدیدؔ نے رکھا
ارتکاز اپنی زندگانی پر