EN हिंदी
تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سے | شیح شیری
tu baaton mein bigaD jata hai mujhse

غزل

تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سے

مرزا اظفری

;

تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سے
پرائی پچ پہ لڑ جاتا ہے مجھ سے

یہ کیا کج کاویاں اور ٹیڑھیاں ہیں
کہ تپ تپ کو جھگڑ جاتا ہے مجھ سے

ہمیشہ ماش کا آٹا سا کیوں تو
ذری بھر میں اکڑ جاتا ہے مجھ سے

برا ہے عشق کا آزار یارو
یہ اکثر وقت اڑ جاتا ہے مجھ سے

طبابت میں مسیحا ہوں ولیکن
مرض یہ تو چپڑ جاتا ہے مجھ سے

ہے جانی تجھ میں سب خوبی پہ جاں سا
تو اک دم میں بچھڑ جاتا ہے مجھ سے

ہے دشمن من چلا پر اظفریؔ دیکھ
نظر پڑتے سنکڑ جاتا ہے مجھ سے