EN हिंदी
تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر | شیح شیری
tu apne phul se honTon ko raegan mat kar

غزل

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر

قیصر الجعفری

;

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر
اگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کر

تو میری شام کی پلکوں سے روشنی مت چھین
جہاں چراغ جلائے وہاں دھواں مت کر

پھر اس کے بعد تو آنکھوں کو سنگ ہونا ہے
ملی ہے فرصت گریہ تو رائیگاں مت کر

چھلک رہا ہے ترے دل کا درد چہرے سے
چھپا چھپا کے محبت کو داستاں مت کر

تو جاتے جاتے نہ دے مجھ کو زندگی کی دعا
میں جی سکوں گا ترے بعد یہ گماں مت کر